لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم
دکھ اور نارسائی کا بھرم
مجھ سے
میری کہانی نہ سنو
یہ ہے غم کا سمندر
یہ ہے حسرتوں کی روانی
یہ ہے تنہائی کی کہانی
لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم
دکھ اور نارسائی کا بھرم
اِسی لیے میں پڑاو میں
منزل پہ پہنچ گیا تو
اداسیوں ناکامیوں کا بھرم
ٹوٹ جائے گا۔
اشرف عاصمی