Sunday, 22 June 2014

لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم دکھ اور نارسائی کا بھرم مجھ سے میری کہانی نہ سنو یہ ہے غم کا سمندر یہ ہے حسرتوں کی روانی یہ ہے تنہائی کی کہانی لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم دکھ اور نارسائی کا بھرم اِسی لیے میں پڑاو میں منزل پہ پہنچ گیا تو اداسیوں ناکامیوں کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ اشرف عاصمی

لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم

دکھ اور نارسائی کا بھرم

 مجھ سے

میری کہانی نہ سنو

یہ ہے غم کا سمندر
یہ ہے حسرتوں کی روانی
یہ ہے تنہائی کی کہانی
لگتا یہ ہی ہے کہ میرے سبب سے ہے قائم
دکھ اور نارسائی کا بھرم
اِسی لیے میں پڑاو میں
منزل پہ پہنچ گیا تو
اداسیوں ناکامیوں کا بھرم
ٹوٹ جائے گا۔
اشرف عاصمی


No comments:

Post a Comment